نئی دہلی یکم جنوری (ایس او نیوز؍یو این آئی) تین طلاق بل کو جانچ کرنے کے لئے سلیکٹ کمیٹی میں بھیجے جانے کے مطالبے پراپوزیشن کے شدید ہنگامہ کی وجہ سے آج اس بل کو راجیہ سبھا میں بحث کے لئے پیش نہیں کیا جا سکا اور ایوان کی کارروائی بدھ تک کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ دوپہر کے وقفے کے بعد کارروائی شروع ہونے پر اے آئی ڈی ایم کے ارکان کے کاویری ندی کے معاملے پر ایوان کے وسط میں آکر نعرے بازی کرنے کے درمیان وزیر صحت جے پی نڈا نے ہیلتھ کیئر پروفیشنل بل پیش کیا۔
اس کے بعد ڈپٹی چیرمین ہری ونش نے’’ تین طلاق‘‘مسلم خواتین (شادی کے حقوق کا تحفظ) بل 2018پیش کرنا شروع کیا، اسی وقت اپوزیشن اراکین کھڑے ہو گئے ۔ ترنمول کے ڈیریک او برائن نے کہا کہ وہ اس بل کو منظور کرنے کے حق میں ہیں لیکن اصول 125کے تحت15اہم اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کو بھیجے جانے کا نوٹس دیا ہے ، اس لئے پہلے اپوزیشن کے نوٹس پر بحث ہونی چاہئے ۔ اس کے بعد حزب اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد نے کہا کہ اپوزیشن کے90فیصد اراکین اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کے حق میں ہیں۔ تمام اپوزیشن پارٹیاں ایوان کی کارروائی چلانا چاہتی ہیں۔
تین طلاق بل پر اپوزیشن کی طرف سے دیئے گئے نوٹس پر بحث ہونی چاہئے کیونکہ اس حکومت نے1993سے جاری روایات کو توڑا ہے اور بل کو قائمہ کمیٹی یا سلیکٹ کمیٹی کی تحقیقات کے بغیر ہی منظور کرانے کی روایت شروع کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مسٹر غلام نبی آزا د نے کہا کہ یہ بل کروڑوں لوگوں کی زندگی پرمثبت یا منفی طور پر اثر انداز ہونے والا ہے ، اس لئے اسے سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنا ضروری ہے ۔ پارلیمانی امور کے وزیر مملکت وجے گوئل نے کہا کہ مسٹر غلام نبی آزاد کے پاس بل پرایوان کے سامنے پیش کرنے کوئی ٹھوس تجویز نہیں ہے ۔ لوک سبھا میں کانگریس نے پہلے اس بل پر بحث میں حصہ لیا تھا اور اس بار بھی ہونے والی بحث میں وہ شامل تھی۔ یہ بل کروڑوں خواتین کے حق سے متعلق ہے ۔ یہ مسلم خواتین کو یکساں حق دلانے والا بل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس بل پر سیاست کر رہی ہے اور وہ نہ تو مسلمانوں کے حق میں ہے اور نہ ہی مسلم خواتین کے حق میں ہے ۔ اس سے پہلے ڈپٹی چیئرمین نے کارروائی شروع ہونے پر کہا کہ ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ ایوان چلا یا جائے ۔ لوک سبھا میں کارروائی چل رہی ہے اور وہاں وقفہ سوالات بھی ہو رہا ہے اور بل بھی منظور کیا جا رہا ہے ۔ ایوان بالا میں بھی کارروائی چلنی چاہئے لیکن ہم ایک دن بھی وقفہ سوالات نہیں چلا پائے ہیں۔ انہوں نے ارکان سے بار بار خاموش ہونے کی اپیل کی لیکن اس کے بعد بھی ہنگامہ اور شور و غل جاری رہنے پر انہوں نے ایوان کی کارروائی پہلے15منٹ کے لئے ملتوی کر دی۔ملتوی کے بعد کارروائی شروع ہونے پر اے آئی ڈی ایم کے ارکان کی نعرے بازی کے درمیان کانگریس کے ڈپٹی لیڈر آنند شرما نے کہا کہ اس طرح قانون نہیں بن سکتا ہے ۔ کوئی بھی اس کی مخالفت نہیں کر رہا ہے بلکہ بل پر حکومت سیاست کر رہی ہے ۔ اپوزیشن کوئی سیاست نہیں کر رہا ہے ۔ اپوزیشن اس بل کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کا مطالبہ کر رہا ہے ۔اس کے بعد قانون و انصاف کے وزیر روی شنکر پرساد نے کہا کہ کل تک تین طلاق کے واقعات ہوئے ہیں۔ اس بل کو لٹکایا نہیں جا سکتا ہے ۔ سپریم کورٹ نے بھی قانون بنانے کے لئے کہا ہے ۔ اسی دوران اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور اپنی اپنی بات کہنے لگے جس سے شدید ہنگامہ ہونے لگا۔ڈپٹی چیرمین نے ارکان سے پرسکون ہونے اور کارروائی آگے بڑھانے کی اپیل کی لیکن ارکان کا ہنگامہ جاری رہا تو انہوں نے ایوان کی کارروائی بروزچہارشنبہ 11بجے تک کے لئے ملتوی کر دی۔ منگل کو نئے سال کے موقع پر تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے ۔